قلبی واردات
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - دل پر گزرنے والی حالت یا کیفیت، واردات قلبی۔ "شعر کی طرح 'صلیبیں مرے دریچے میں" بھی قلبی واردات کا ذکر ہے۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٩ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ صفت 'قلبی' کے ساتھ عربی زبان سے ہی اسم 'واردہ' کی جمع 'واردات' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٨٦ء میں "فیضان فیض" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دل پر گزرنے والی حالت یا کیفیت، واردات قلبی۔ "شعر کی طرح 'صلیبیں مرے دریچے میں" بھی قلبی واردات کا ذکر ہے۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٩ )
جنس: مؤنث